
لاہور (میڈیا رپورٹس)تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ اس رپورٹ کے مطابق ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ سمیرا موجودہ مرحلے پر بے قصور پائے گئے ہیں اور فی الحال ان کی گرفتاری درکار نہیں۔ تفتیشی افسر کے اس بیان کی روشنی میں ثاقب چدھڑ نے اپنی عبوری ضمانت کی درخواست خود ہی واپس لے لی جس پر عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ کی ضمانت کی درخواستیں نمٹا دیں۔
عدالت کے باہر مومنہ اقبال نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے الزام لگایا کہ این سی سی آئی اے نے ملی بھگت کے تحت تفتیش کا رخ تبدیل کیا اور انہیں اس تبدیلی سے آگاہ کیے بغیر محض ایک خط تھما دیا گیا۔
اداکارہ نے کہا کہ ثاقب چدھڑ سے متعلق تمام شواہد سوشل میڈیا پر عام کروں گی، اب خاموش نہیں بیٹھوں گی اور ثاقب چدھڑ کیخلاف ہر قانونی و عوامی فورم پر آواز اٹھاؤں گی۔
یہ تنازع رواں سال مئی میں اس وقت سامنے آیا جب مومنہ اقبال نے سوشل میڈیا پر الزام لگایا کہ مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والا ایک رکن اسمبلی انہیں طویل عرصے سے ہراساں کر رہا ہے۔ اس کے بعد این سی سی آئی اے میں باضابطہ شکایت درج کروائی گئی جس پر ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ سمیرا اور نامعلوم ساتھیوں کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت سائبر ہراسانی، بلیک میلنگ، غیر قانونی نگرانی اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا مقدمہ درج کیا گیا۔
یاد رہے کہ ثاقب چدھڑ نے جوابی کارروائی میں مومنہ اقبال کی بہن رمشا اقبال کیخلاف امانت میں خیانت کا الگ مقدمہ بھی درج کروا رکھا ہے جس کی سماعت 14 ستمبر کو ہونی ہے۔
کشمیری رہنما یاسین ملک کا اپنے مقدمات کا دفاع نہ کرنے کا فیصلہ
سرینگر: (میڈیا رپورٹس) کشمیری رہنما یسین ملک نے نے سری نگر کی عدالت میں 25 صفحات پر مشتمل …





