پشاور(میڈیا رپورٹس) کے علاقے دیر کالونی میں واقع نجی سکول کی چھت گرنے کے واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 34 ہو گئی ہے۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور نصیر اللہ خان بابر ہسپتال کی جانب سے 33 طلبہ اور ایک ٹیچر کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ مرنے والے بچوں کی عمریں چھ سے 14 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں جبکہ ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد پولیس نے بتایا ہے کہ سکول پرنسپل زیرِ حراست ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق ان کے کنٹرول روم کو 8 بج کر 48 منٹ پر اسکول کی چھت گرنے کی اطلاع ملی جس کے فوراً بعد ریسکیو آپریشن کا آغاز ہوا جو 4 گھنٹے تک جاری رہا۔ اس دوران ملبے تلے بچوں کو نکال کر لیڈی ریڈنگ اسپتال اور نصیر اللہ بابر میموریل اسپتال منتقل کیا جاتا رہا جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی۔
پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال کی جانب سے جاری کی گئی فہرست کے مطابق حادثے کے بعد کل 53 افراد اسپتال لائے گے جن میں سے 36 کی صنف مرد اور 12 کی صنف عورت تھی۔ ان میں سے 31 بچے اور 2 خاتون ٹیچرز جاں بحق ہو گئے جبکہ 17 زخمی بچوں کو طبی امداد دینے کے بعد ڈسچارج کر دیا گیا۔
کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) پشاور ڈاکٹر میاں سعید کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ تھانہ یکہ توت کی حدود میں آتا ہے اور حادثے کے وقت 110 بچے عمارت میں موجود تھے۔
واضح رہے کہ حادثے کے وقت اسکول مالک اور انتظامیہ دونوں جائے وقوع سے غائب پائے گئے جس کے باعث ریسکیو حکام اور میڈیا ابتدائی طور پر اسکول میں موجود بچوں کی تعداد سے بھی لاعلم تھے۔
سی سی پی او نے مزید کہا کہ یہ اسکول الخیر نامی ایک رفاعی تنظیم کی زیر نگرانی چلایا جا رہا تھا جس کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

ملتان کے قریب رحمان بابا ایکسپریس کی بوگیاں پٹری سے اُترنے سے چار افراد ہلاک

ریلوے انتظامیہ(میڈیارپورٹس) کے مطابق ٹرین میں 500 سے 600 لوگ سوار تھے جن کو ریسکیو کرنے کے…