سینیٹ اجلاس(میڈیا رپورٹس) سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ “پہلے تو انہوں (فضل الرحمان) نے مس کوٹ کیا، کہ ہم کوئی دفاعی معاہدہ کرنے ایران گئے ہوئے تھے، تو انہیں یہ معلوم ہی نہیں کہ وہ دفاع سے متعلق نہیں تھا، اور پھر انہوں (فضل الرحمان) نے مجھے کہا کہ میں گیا ہوا تھا۔ تو میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ میں کہیں شوق سے نہیں جاتا، مجھے وزیراعظم نے خصوصی ٹاسک دیا ہوا ہے، یہ موجودہ جنگ کے معاملات جو چل رہے ہیں اس پر وزیراعظم نے مجھے کچھ چیزیں سپرد کی ہوئی ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کافی دنوں سے میرے اوپر تبصرے کر رہی ہے۔ میں ذاتی طور پر مولانا فضل الرحمان کا دل سے احترام اور عزت کرتا تھا، لیکن کل جب انہوں نے کہا کہ میں ریاست پر تھوکتا ہوں تو وہ احترام ختم ہو گیا۔
وزیر داخلہ نے مولانا فضل الرحمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مثال ایسی ہے کہ اگر ان کو حکومت میں حصہ ملے تو سب ٹھیک۔ اور اگر حکومت میں کوئی کردار نہیں ہے تو حکومت کے خلاف باتیں شروع کر دیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اگر تنقید کرتے ہیں تو جواب بھی سننے کی ہمت پیدا کریں۔ جبکہ یہ اسلام کو کاروبار اور سیاست کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
محسن نقوی کے خطاب کے دوران اپوزیشن نے شور مچانا شروع کر دیا جبکہ اسپیکر نے بار بار کامران مرتضیٰ کا مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ محسن نقوی کو گفتگو پوری کرنے دیں پھر ان کی بات بھی سنی جائے گی لیکن اپوزیشن کے شور کے باعث وزیر داخلہ کو اپنی گفتگو ادھوری چھوڑی پڑی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

جنرل وحید کاکڑ(میڈیا رپورٹس) 12 جنوری 1993 تا 11 جنوری 1996 پاکستان کے گیارہویں چیف رہے، ا…