کراچی (میڈیا رپورٹس)کی عدالت نے این سی سی آئی اے (نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی) کی جانب سے درج مقدمے میں ٹی وی میزبان اور پاکستان عوام راج تحریک کے سربراہ سید اقرار الحسن کی درخواست ضمانت منظور کرلی ہے۔
عدالت نے 2 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ان کی رہائی کا حکم دیا ہے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ گلریز میمن نے آج سٹی کورٹ میں فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا۔ اقرار الحسن کو 12 اکتوبر کو لاہور کے علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) سے حراست میں لیا گیا تھا۔
سماعت کے دوران اقرار الحسن کے وکیل احمد مسعود نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے کا چالان پہلے ہی جمع کرایا جا چکا ہے جبکہ اینکر پرسن کے موبائل فون بھی تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
این سی سی آئی اے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اقرار الحسن سے مزید تفتیش کی ضرورت نہیں، تاہم ان کی فرانزک رپورٹ کا انتظار ہے۔ اس پر عدالت نے ان کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے مطلوبہ ضمانتی مچلکے جمع کرانے پر رہائی کا حکم دے دیا۔
اقرار الحسن کو اکتوبر میں گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ (ایسٹ) نے انہیں چار روز کے لیے این سی سی آئی اے کی تحویل میں دے دیا تھا۔
این سی سی آئی اے نے ان پر اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے مبینہ طور پر ریاست مخالف، جھوٹا اور ہتک آمیز مواد شائع کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
ان کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کی دفعات 9، 10، 24 اور 26 اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

مولانا فضل الرحمان اب آپ کو ریاست میں نوکری نہیں ملے گی، محسن نقوی

سینیٹ اجلاس(میڈیا رپورٹس) سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ “پہلے تو انہوں (فضل الرحما…