میڈیا رپورٹس : ٹک ٹاکر علی حیدرآبادی کی اپنی اہلیہ زینب کو طلاق دینے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد دونوں کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔وائرل ویڈیو کے بعد علی حیدرآبادی اور زینب نے الگ الگ ویڈیو پیغامات جاری کیے، جن میں دونوں نے ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔زینب نے اپنے ویڈیو بیان میں روتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔ زینب کے مطابق، علی حیدرآبادی نے انہیں دھمکی دی کہ ان کے پاس ایسے افراد موجود ہیں جو انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔دوسری جانب علی حیدرآبادی نے قرآن پاک ہاتھ میں اٹھا کر ایک ویڈیو بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے زینب پر تشدد کے الزامات کی تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی اہلیہ کو کبھی نہیں مارا اور نہ ہی ان کی انگلی توڑی۔طلاق کے وقت ویڈیو ریکارڈ کرنے کے حوالے سے علی حیدرآبادی نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے یہ ویڈیو اس لیے بنائی تاکہ اگر مستقبل میں ان کے خلاف کوئی الزام عائد کیا جائے تو وہ اپنی جانب سے حقائق پیش کر سکیں۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ زینب کے اہلِ خانہ نے انہیں اپنے گھر میں رکھا تھا، بعد ازاں انہوں نے الگ فلیٹ بھی لیا، تاہم زینب ان کے ساتھ وہاں رہنے نہیں آئیں۔علی حیدرآبادی کا کہنا تھا کہ وہ ریاستی اداروں کا احترام کرتے ہیں اور اگر کسی بھی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے طلب کیا گیا تو وہ مکمل تعاون کریں گے۔تاحال ان الزامات کی کسی آزاد ذریعے یا متعلقہ ادارے کی جانب سے تصدیق نہیں ہوئی، جبکہ اس معاملے پر حکام کی جانب سے بھی کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

خیبرپختونخواہ:لوئر دیرمیں آسمانی بجلی گرنے سے 2 بچے جاں بحق، مدرسے کی 20 سے زائد طالبات زخمی

خیبرپختونخواہ:(میڈیا رپورٹس) ضلع لوئر دیر میں مدرسے پر آسمانی بجلی گرنے سے 20 سے زائد طال…