
Israel Politics
تل ابیب (میڈیا رپورٹس)سابق آرمی چیف اور اپوزیشن رہنما گاڈی آئزن کوٹ کو عرب جماعتوں کی حمایت ملنے کے بعد اقتدار کا سیاسی منظرنامہ بدلتا نظر آ رہا ہے۔
جمعرات کو صدر آئزک ہرزوگ کے ساتھ سیاسی جماعتوں کی مشاورت کے دوران عرب جماعتوں نے آئزن کوٹ کی حمایت کا اعلان کیا۔
اسرائیل کی 120 رکنی پارلیمان میں حکومت بنانے کے لیے 61 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ عرب جماعتوں کے پاس 19 نشستیں ہیں۔ ان کی حمایت کے بعد اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ آئزن کوٹ کو 67 ارکان کی حمایت حاصل ہو سکتی ہے، جو سادہ اکثریت کے لیے درکار تعداد سے 6 زیادہ ہے۔
دوسری جانب موجودہ وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کو بڑا دھچکا پہنچا ہے، کیونکہ ان کی پرانی اتحادی جماعت یونائیٹڈ توراہ جوڈازم (یو ٹی جے) کے ایک دھڑے نے بھی انھیں حمایت دینے سے انکار کر دیا ہے۔
وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد کے پاس 53 نشستیں ہیں، لیکن انھیں تمام 53 ارکانِ پارلیمان کی حمایت ملنے کا امکان بہت کم دکھائی دیتا ہے۔
یونائیٹڈ توراہ جوڈازم (یو ٹی جے) کی سات نشستوں میں سے چار نشستوں کی نمائندگی کرنے والے دھڑے ڈیگل ہاتورہ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی امیدوار کی حمایت نہیں کرے گا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق، انتہائی قدامت پسند مذہبی رہنماؤں نے نیتن یاہو سے فاصلے اختیار کر لیے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کی حکومت حریدی برادری کے مردوں کو لازمی فوجی خدمت سے استثنیٰ دینے والا قانون منظور کرانے میں ناکام رہی ہے۔
ادھر نیتن یاہو کی جماعت لیکود مسلسل یہ الزام لگاتی رہی ہے کہ عرب جماعتوں نے بیرونی حمایت کے ذریعے انتخابات میں دھاندلی کی ہے۔ تاہم، اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
نیتن یاہو اور ان کی جماعت نے انتخابی بے ضابطگیوں کے حوالے سے چند واقعات کا ذکر ضرور کیا ہے، جن میں ووٹنگ شروع ہونے سے پہلے ووٹروں کو رشوت دینے کے الزام میں تین سیاسی کارکنوں کی گرفتاری بھی شامل ہے۔
ان کارکنوں کے رام پارٹی سے مبینہ تعلقات کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم پارٹی نے اس معاملے میں کسی بھی قسم کے تعلق یا ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
پی ٹی آئی رہنما صنم جاوید کا شوہر سے خلع کا فیصلہ، فیملی کورٹ میں درخواست دائر
پی ٹی آئی رہنما صنم جاوید کا شوہر سے خلع کا فیصلہ، فیملی کورٹ میں درخواست دائر ذہنی ہم آہن…





