dg ispr press coference

ڈی جی آئی ایس پی آرجنرل احمد شریف چوہدری نے حالیہ پریس کانفرنس میں بلوچستان میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات سے متعلق اہم تفصیلات بیان کر دیں۔

ملک خصوصاً بلوچستان میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے تناظر میں ہونے والی پریس بریفنگ میں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے

بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چار روز کے دوران دہشت گردی کے تین بڑے واقعات رونما ہوئے جن میں سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ پہلا واقعہ 4 اور 5 جولائی کی درمیانی شب پیش آیا، جب ان کے مطابق “فتنہ الخوارج” سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے حنا اراک کے علاقے میں مقامی آبادی پر حملہ کیا

بلوچستان، پاکستان کی آن اور شان ہے ،بلوچستان کی ترقی انکو ہضم نہیں ہو رہی۔ انکو بلوچستان میں پانی کی پائپ لائن سے مسئلہ ہے۔ دہشت گردانہ حملوں میں بھارت ملوث ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مقامی شہریوں نے مزاحمت کرتے ہوئے حملہ آوروں کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ اس واقعے میں چار شہری جان کی بازی ہار گئے جبکہ چھ افراد زخمی ہوئے۔

پاکستانی حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور اس سے منسلک گروہوں کے لیے “فتنہ الخوارج” کی اصطلاح استعمال کرتی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دوسرا بڑا واقعہ ضلع زیارت میں منگی ڈیم کے پمپنگ اسٹیشن نمبر 3 کی حفاظت پر مامور پولیس چوکی پر پیش آیا، جہاں دہشت گردوں نے کثیر جہتی حملہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے شدید مزاحمت کی اور کارروائی کے دوران 15 دہشت گرد مارے گئے، تاہم نو پولیس اہلکار بھی شہید ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ فوج اور فرنٹیئر کور کی کمک فوری طور پر روانہ کی گئی، لیکن ان کے پہنچنے سے قبل حملہ آور باقی پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا چکے تھے۔

ان کے بقول جب سکیورٹی فورسز موقع پر پہنچیں تو کم از کم 15 دہشت گردوں کی لاشیں موجود تھیں، جبکہ شہید ہونے والے تمام پولیس اہلکار مقامی تھے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ فوج، فرنٹیئر کور اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کا تعاقب کیا اور انہیں گھیرے میں لے لیا۔

انہوں نے بتایا کہ یرغمال اہلکاروں کی موجودگی کے باعث فضائی کارروائی سے گریز کیا گیا تاکہ جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق 6 جولائی سے زیارت کے پہاڑی علاقوں میں جاری آپریشن کے دوران مزید 18 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اس کارروائی میں متعدد دہشت گرد بھی مارے گئے، تاہم جب حملہ آوروں نے خود کو محاصرے میں پایا تو انہوں نے یرغمال اہلکاروں کو قتل کر دیا۔

یاد رہے کہ رواں ہفتے ضلع زیارت میں پولیس چوکی پر ہونے والے حملے میں دو اسٹیشن ہاؤس افسران (ایس ایچ اوز) سمیت کم از کم نو پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے، جبکہ بعد ازاں شروع کیے گئے کلیئرنس آپریشن میں 15 دہشت گرد مارے گئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

بحیرۂ عرب میں لاپتہ ہونے والے پاکستانی کارگو طیارے کا ملبہ مل گیا، عملے کی تلاش جاری

کراچی :(میڈیا رپورٹس) شارجہ سے کراچی کے سفر کے دوران پاکستانی ساحلی حدود میں لاپتہ ہونے وا…