نیپالی پولیس(میڈیارپورٹس) کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 273 ہو گئی ہے، ہلاک ہونے والوں میں سے 64 افراد کی لاشیں ضلع چتوان کے نشیبی علاقوں سے اور 26 افراد کی لاشیں نوال پراسی ایسٹ سے ملی ہیں، اب بھی لاپتہ افراد میں 28 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں کی حتمی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں، خیال کیا جا رہا ہے کہ کم از کم 1500 افراد لاپتہ اب بھی لاپتہ ہیں، جن میں 800 غیر ملکی شہری شامل ہیں، اور ان میں سے اکثر افراد کا تعلق انڈیا سے ہے۔
متاثرہ علاقے میں کام کرنے والے ایک سیاحتی گروپ کا کہنا ہے کہ 47 افراد، جن میں گائیڈز اور سیاح شامل ہیں، سیلاب آنے کے بعد سے لاپتا ہیں اور ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔
چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق تبت کے گیرونگ کاؤنٹی میں لاپتا افراد کی تعداد 558 ہو گئی ہے، جن میں 260 غیر ملکی شہری شامل ہیں، جبکہ تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ آیا اس اعداد و شمار میں ان افراد کی دوبارہ گنتی تو نہیں کی گئی جنھیں نیپال کے لاپتا افراد کے اعداد و شمار شامل کیا گیا ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق سیلاب ایک گلیشیئر کے انہدام اور ملبے کے بہاؤ کے باعث آیا، جس کے نتیجے میں نشیبی علاقوں میں تباہ کن اثرات مرتب ہوئے۔
نیپالی فوج نے 2,000 فوجی اہلکار تعینات کیے ہیں، جو زمینی اور فضائی سرچ اینڈ ریسکیو کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کر رہے ہیں۔
چینی حکام کے مطابق تبت کی جانب غیر یقینی موسمی حالات اور علاقے کا دشوار گزار اور دور دراز جغرافیہ امدادی کارروائیوں کو مزید مشکل بنا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

نواز شریف نے بیرسٹر افتخار کو وزیراعظم آزادکشمیر بنانے کی منظوری دے دی: مریم اورنگزیب

اسلام آباد: (میڈیا رپورٹس) سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ …