
اسلام آباد میں واقع پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آگ صبح چھ بجے سے ساڑھے چھ بجے کے درمیان لگی تھی۔
یہ آگ اسلام آباد میں واقع پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے زچہ و بچہ وارڈ میں لگی۔ اطلاعات کے مطابق آگ ایک ایئر کنڈیشننگ یونٹ سے شروع ہوئی اور وارڈ میں آکسیجن کی لائنوں کے باعث تیزی سے پھیل گئی۔
ہسپتال کے ترجمان کے مطابق آگ لگنے کے وقت وارڈ میں 15 نومولود بچے موجود تھے، جن میں سے صرف ایک بچے کو زندہ بچایا جا سکا ہے۔
وفاقی سیکریٹری صحت کو معطل کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جسے 24 گھنٹوں کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس واقعے پر ’گہرے دُکھ اور دلی افسوس‘ کا اظہار کیا ہے۔
غم سے نڈھال والدین ہسپتال کے باہر جمع ہیں، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرائے جائیں گے۔
ہسپتال میں سوگ اور صدمے کی کیفیت ہے، اور عملہ اور لواحقین اس افسوسناک واقعے کے اثرات سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پاکستان میں ہلاکت خیز آتشزدگی کے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں، جن کی وجہ اکثر عمارتوں میں حفاظتی قوانین پر ناقص عملدرآمد کو قرار دیا گیا۔ رواں سال کے آغاز میں کراچی کے ایک شاپنگ سینٹر میں لگنے والی آگ سے 67 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین اور لواحقین نے بچوں کے وارڈ میں ناقص انتظامات کے دعوے کیے ہیں جنھیں پمز انتظامیہ نے مسترد کیا ہے۔
پاکستان آئیڈل کی فاتح ،فیصل آباد کی حرا قیصرپر انعامات کی بارش
فیصل آباد:موسیقی کے بڑے مقابلے پاکستان آئیڈل کا تاج فیصل آباد کی حرا قیصر کے سر سج گیا۔…





