
اسلام آباد:(میڈیا رپورٹس) رپورٹ وزیراعظم کے مشیر توقیر شاہ کے آفس میں جمع کروائی گئی۔ انکوائری کمیٹی کے سربراہ سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان نے رپورٹ وزیراعظم کو بھجوا دی۔
ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم کو رپورٹ کے مندرجات اور سفارشات سے بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ انکوائری کمیٹی کے ذرائع نے رپورٹ وزیراعظم آفس بھجوانے کی تصدیق کر دی ہے، اور رپورٹ پبلک کرنے کا اختیار وزیراعظم کو دے دیا گیا ہے۔
تین دن قبل 26 اگست کو پمز کے نیونیٹل وارڈ میں آتشزدگی کے نتیجے میں نرسری میں موجود 14 نومولود بچے جاں بحق ہو گئے تھے جس کی تحقیقات کیلئے وزیراعظم شہباز شریف نے اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کر دی تھی۔
ذرائع کے مطابق رپورٹ میں پمز اسپتال میں علاج اور ناکافی سہولیات کا بھی ذکر ہے، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسپتال میں کوئی بھی چیز عالمی معیار کے مطابق نہیں، رپورٹ میں ذمہ داروں کے خلاف وزیراعظم کو کارروائی کرنے کی فوری سفارش کی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ پر انکوائری کمیٹی کے تمام اراکین کے دستخط ہیں، کمیٹی نے سانحہ پمز کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین بھی کر دیا ہے۔
رپورٹ میں ریسکیو ٹیموں کو امدادی کارروائیوں میں درپیش مسائل کا بھی ذکر موجود ہے، پمز کے متعلقہ غیر حاضر عملے کیخلاف کارروائی اور مستقبل میں ایسے حادثات سے بچنے کے لیے سفارشات بھی دی گئی ہیں، پمز کی انتظامیہ اور ڈاکٹروں کے انٹرویوز کو بھی رپورٹ کا حصہ بنایا گیا ہے، فائر بریگیڈ ریسکیو ٹیموں کے بیانات بھی رپورٹ میں شامل ہیں۔
نیپال کے سیلاب میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 600 سے تجاوز کر گئی
نیپال اور تبت (میڈیارپورٹس)کے سرحدی علاقے میں گلیشیئر پھٹنے سے آنے والے ہولناک فلیش فلڈ (…



