سینیٹ میں (میڈیا رپورٹس)سینیٹر شیری رحمان نے سانحہ پمز پر سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کی تشکیل کے لیے تحریک پیش کی جسے منظور کر لیا گیا، سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ ہم عوام کے نوکر ہیں، عوام کے مسائل پر بات کرنا ہی ہمارا کام ہے۔
سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ سانحہ پمز میں بچوں کے جاں بحق ہونے کا معاملہ دبنا نہیں چاہئے، کیا کبھی کسی نے اے سی سے چنگاری نکلتی دیکھی ہے؟ مسئلہ پیسوں کا نہیں، گورننس کا ہے۔
سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ ایک قانون بنایا جائے کہ سب کا علاج سرکاری ہسپتال سے ہو گا، چاہے کوئی سینیٹر ہو، کوئی جج ہو، کوئی بیوروکریٹ ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ اشرافیہ کے پرائیویٹ علاج پر پابندی ہونی چاہئے، اس پابندی کے بعد مہینوں میں سرکاری ہسپتالوں کا حال بہترین ہو گا، جو سرکاری ہسپتالوں سے علاج نہ کرائے وہ نوکری سے جائے۔
دوسری طرف قومی اسمبلی میں قرارداد چیئرمین پارلیمانی کاکس برائے حقوق اطفال بیرسٹر دانیال نے پیش کی جس میں کہا گیا کہ یہ ایوان پمز میں آتشزدگی کے حالیہ واقعہ میں معصوم بچوں کی جانوں کے المناک نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہے۔

قرارداد میں مزید کہا گیا کہ ایوان اس سانحے کی بھرپور مذمت کرتا ہے اور اس کا باعث بننے والی لاپرواہی پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے، قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ اس لاپرواہی کا جو بھی ذمہ دار ہے اس کے خلاف قانون کے مطابق سنگین کارروائی عمل میں لائی جائے۔
حکومت سے ہسپتالوں، خاص طور پر ان کی نرسری اور بچوں کے وارڈز میں، فائر سیفٹی کے سخت انتظامات اور ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے بہترین انتظامات کو یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک واقعات کا تدارک کیا جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

محمود بھٹی اور یوٹیوبر کو 30 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم

لاہور: پنجاب ہتکِ عزت ٹربیونل نے فیشن ڈیزائنر محمود احمد بھٹی اور دو دیگر مدعا علیہان کو ن…