
نیپال(میڈیا رپورٹس) کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ملک میں 4247 افراد لاپتہ ہیں۔ ان میں 3655 نیپالی شہری جبکہ 592 غیر ملکی ہیں۔
جو افراد لاپتہ بتائے جا رہے ہیں، ان میں 933 وہ ہیں جو پن بجلی کے منصوبے پر کام کرنے والے اہلکار تھے، جبکہ 102 نیپالی فوجی، پولیس اہلکار اور محکمۂ کسٹمز کے افسران بھی لاپتہ افراد میں شامل ہیں۔
ہر روز درجنوں لاشیں مل رہی ہیں اور نیپال میں تصدیق شدہ ہلاکتوں کی تعداد اب 903 ہو گئی ہے۔
دوسری جانب تبت میں، چینی سرکاری میڈیا کے مطابق، ہلاکتوں کی تعداد اس وقت 16 ہے جبکہ 546 افراد لاپتہ ہیں۔
تبت میں بھی لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں تاہم چین میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار سٹیفن مکڈونل کے مطابق کسی شخص کے زندہ حالت میں ملنے کے امکانات مسلسل کم ہوتے جا رہے ہیں۔
ریسکیو آپریشن کی فوٹیجز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امدادی ٹیمیں رسیوں کا استعمال کرتے ہوئے، منہدم ہو جانے والے پہاڑوں کی ڈھلوانوں سے نیچے اتر رہی ہیں، لوگوں کے نام پکار رہی ہیں، حالانکہ وہاں کے حکام کے مطابق انھیں کوئی نہیں مل رہا۔
تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اب وہ یہاں ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو نشانہ بنا رہی ہے جن کے بارے میں اس کا خیال ہے کہ انھوں نے ہنگامی صورتحال کی شدت کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے، خاص طور پر وہ لوگ جو ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہونے کی بات کر رہے ہیں۔
اور پھر بھی 546 افراد لاپتہ قرار دیے گئے ہیں، تاہم، بی بی سی کے نامہ نگار سٹیفن مکڈونل کے مطابق، یہ سمجھنا پڑے گا کہ تبت میں ہلاکتوں کی حقیقی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
نیپال کے سیلاب میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 600 سے تجاوز کر گئی
نیپال اور تبت (میڈیارپورٹس)کے سرحدی علاقے میں گلیشیئر پھٹنے سے آنے والے ہولناک فلیش فلڈ (…




