
لاہور: پنجاب ہتکِ عزت ٹربیونل نے فیشن ڈیزائنر محمود احمد بھٹی اور دو دیگر مدعا علیہان کو نیشنل ہسپتال ڈی ایچ اے لاہور کے ڈائریکٹر رضوان آفتاب احمد کی جانب سے دائر ہتکِ عزت کے دعوے کا دفاع کرنے کی اجازت دے دی، تاہم انہیں 30،30 لاکھ روپے کے ذاتی ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔
ستمبر3 ، کو جاری کیے گئے تحریری حکم میں ٹربیونل نے محمود احمد بھٹی، جو مدعا علیہ نمبر ایک ہیں، اور مدعا علیہ نمبر دو کی جانب سے دائر دفاع کے لیے چھٹی کی درخواستیں منظور کرلیں۔
مدعا علیہ نمبر تین کے خلاف ٹربیونل پہلے ہی 12 مئی 2026 کو یک طرفہ کارروائی کا حکم دے چکا تھا۔
درخواستوں پر سماعت کے دوران مدعی، جو ایک ہیلتھ کیئر انٹرپرینیور ہیں، نے مؤقف اختیار کیا کہ مدعا علیہان نے ایک نجی ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو ایک مبینہ ہتک آمیز خط ارسال کیا، جس میں غیر مجاز تجارتی سرگرمیوں اور ہسپتال کے وسائل کے غلط استعمال سے متعلق الزامات عائد کیے گئے تھے۔
مدعی نے مزید الزام عائد کیا کہ محمود احمد بھٹی نے مدعا علیہان نمبر دو اور تین کی معاونت سے سوشل میڈیا پر بھی مبینہ طور پر ہتک آمیز الزامات عائد کیے اور انہیں جعلی ادویات کی تیاری میں ملوث قرار دیا، جس سے ان کی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔
محمود احمد بھٹی کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے دعویٰ کو غلط فہمی پر مبنی اور بے بنیاد قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مدعی مبینہ ہتک آمیز بیانات کے درست الفاظ بھی بیان کرنے میں ناکام رہے۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ خط ایک مراعات یافتہ مواصلت تھا، جو چیف ایگزیکٹو آفیسر، بورڈ اراکین اور پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کو مدعا علیہ کی حیثیت سے بطور شیئر ہولڈر اور بورڈ ممبر ارسال کیا گیا تھا۔
دوسرے مدعا علیہ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل ایک ڈیجیٹل صحافی ہیں اور متعلقہ انٹرویو عوامی مفاد میں کیا گیا۔ ان کے مطابق مدعا علیہ نمبر دو نے صرف ایک بحث کی میزبانی کی، جس میں نہ تو مدعی کا نام لیا گیا اور نہ ہی براہِ راست کوئی ہتک آمیز بیان دیا گیا۔
دوسری جانب مدعی کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ انٹرویو اور خط دونوں کا تعلق براہِ راست ان کے مؤکل سے تھا اور ایک معقول ناظر مبینہ بیانات کو مدعی سے منسلک کرسکتا تھا۔
انہوں نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ خط کی گردش بدنیتی پر مبنی تھی، اس لیے اسے مراعات یافتہ مواصلت قرار نہیں دیا جاسکتا، جبکہ مدعا علیہ نمبر دو نے مبینہ ہتک آمیز مواد کو پھیلانے کے لیے اپنا پلیٹ فارم فراہم کیا۔
فریقین کے دلائل سننے اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد ٹربیونل نے قرار دیا کہ مقدمے میں قانون اور حقائق کے باہم منسلک سوالات شامل ہیں، جبکہ مدعا علیہان نے مبینہ ہتک آمیز بیانات سے واضح طور پر انکار کیا ہے۔
ٹربیونل نے اپنے فیصلے میں مختلف عدالتی نظائر کا حوالہ دیا، جن میں
2002 SBLR 754، 1993 PSC 569 اور 2014 LHC 1229
شامل ہیں۔
ان قانونی اصولوں کی روشنی میں ٹربیونل نے محمود احمد بھٹی اور مدعا علیہ نمبر دو کی دفاع کے لیے چھٹی کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے ہر ایک کو 30 لاکھ روپے کا ذاتی ضمانتی بانڈ جمع کرانے کی ہدایت کی۔
ٹربیونل نے مقدمے میں مزید کارروائی کے لیے 22 ستمبر 2026 کی تاریخ مقرر کردی ہے، جب فریقین مجوزہ مسائل، گواہوں کی فہرستیں، انحصار کی فہرستیں اور دیگر متعلقہ دستاویزات پیش کریں گے۔
ایران بھی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا حصہ بن جائے گا: روسی وزیر خارجہ
میڈیا رپورٹس کے مطابق لاوروف نے کہا کہ اس کے حامیوں نے عندیہ دیا ہے کہ خلیج سے باہر کے مما…





