
میڈیا رپورٹس کے مطابق حماد اظہر کو ملتان سے گرفتار کر کے لاہور پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے، وہ 9 مئی کے واقعات میں مختلف مقدمات میں ملوث اور2023 سے اشتہاری تھے۔
واضح رہے کہ 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد حماد اظہر طویل عرصے تک روپوش (منظرِ عام سے غائب) رہے۔ وہ جولائی 2025 میں اپنے والد میاں اظہر جو سابق گورنر پنجاب اور مسلم لیگ (ق) کے بانیوں میں سے تھے، کے انتقال پر چند لمحوں کے لیے سامنے آئے تھے مگر دوبارہ روپوش ہو گئے
پاکستان تحریک انصاف نے سابق وفاقی وزیر اور سابق رکن قومی اسمبلی حماد اظہر کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام، ریاستی جبر اور فاشسٹ ہتھکنڈوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔
پی ٹی آئی کے مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حماد اظہر کو مسلسل سیاسی بنیادوں پر انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ حکومت ریاستی طاقت کا بے دریغ استعمال کرکے سیاسی مخالفین کو دبانے اور تحریک انصاف کی آواز خاموش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حماد اظہر سابق وفاقی وزیر ہیں، اگر ان کے خلاف کوئی مقدمہ موجود ہے تو انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے۔ سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کو بلاجواز گرفتار کرنا اور خوف و ہراس پھیلانا جمہوریت اور آئین کی روح کے منافی ہے۔
تحریک انصاف نے کہا کہ گرفتاریوں، مقدمات اور ریاستی جبر کے ذریعے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور تحریک انصاف کے نظریے کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ظلم اور جبر کے ہر حربے سے عوام کے عزم میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا کہ حماد اظہر کو فوری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے، ان کے بنیادی اور قانونی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے اور سیاسی انتقام کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔
پی ٹی آئی کے مطابق سیاسی مخالفین کے خلاف ریاستی طاقت کے استعمال کے بجائے آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے معاملات کو آگے بڑھایا جانا چاہیے۔
ایران بھی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا حصہ بن جائے گا: روسی وزیر خارجہ
میڈیا رپورٹس کے مطابق لاوروف نے کہا کہ اس کے حامیوں نے عندیہ دیا ہے کہ خلیج سے باہر کے مما…





