میڈیا رپورٹس کے مطابق لاوروف نے کہا کہ اس کے حامیوں نے عندیہ دیا ہے کہ خلیج سے باہر کے ممالک کے لیے بھی اس میں شمولیت کا راستہ کھلا رکھا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصر کا اکثر ذکر کیا جاتا ہے، مجھے یقین ہے کہ اگر الجزائر بھی اس میں دلچسپی ظاہر کرتا ہے تو کسی مرحلے پر اس کا بھی مثبت اثر ہوگا، ایسے کسی ڈھانچے میں ایران کی شرکت کی شرائط پر اتفاق کرنا ماسکو کی جانب سے اصل میں تجویز کردہ سکیورٹی ماڈل کی جانب پیش رفت کے لیے سب سے زیادہ عملی قدم ثابت ہوسکتا ہے۔
روسی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ماسکو ایسے کسی بھی علاقائی سکیورٹی انتظام میں قائدانہ کردار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔
امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث خطے میں استحکام متاثر ہونے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت میں خلل پڑنے کے بعد علاقائی طاقتیں سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ترکیہ کے پاس نیٹو کی دوسری سب سے بڑی فوج ہے، جبکہ سعودی عرب خلیج کی ایک اہم طاقت اور تیل برآمد کرنے والا بڑا ملک ہے۔ پاکستان واحد جوہری ہتھیار رکھنے والا مسلم ملک ہے۔
9 اگست کو نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ مکہ معاہدہ ان ممالک کے لیے کھلا ہے جو اس کے بنیادی اصولوں کی پاسداری کے لیے تیار ہوں، اور اس بات پر زور دیا تھا کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں اور اس کا مقصد باہمی احترام، تعاون اور پُرامن ذرائع کے ذریعے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

محمود بھٹی اور یوٹیوبر کو 30 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم

لاہور: پنجاب ہتکِ عزت ٹربیونل نے فیشن ڈیزائنر محمود احمد بھٹی اور دو دیگر مدعا علیہان کو ن…