
نئی دہلی (میڈیا رپورٹس)سی جے پی کے مطابق ابھیجیت دیپکے، شریک کنوینر آشوتوش رانکا اور سورَو داس کے ہمراہ سنیچر کی صبح ممبئی سے دہلی پہنچے تھے۔ اس دوران ابھیجیت دیپکے سوشل میڈیا پر براہِ راست ویڈیو نشر کر رہے تھے کہ پولیس نے انھیں اور ان کے ساتھیوں کو حراست میں لے لیا۔
ابھیجیت دیپکے نے حراست میں لیے جانے کے بعد کہا کہ ’دیکھیں ملک کس سمت جا رہا ہے۔‘ انھوں نے کہا، ‘ہمیں پرواز کے اندر حراست میں لیا جا رہا ہے، اندرا گاندھی نے بھی کبھی ایسا نہیں کیا تھا۔ یہ آمریت ہے، لیکن ہم ان سے نہیں ڈرتے۔
اس سے قبل مودی حکومت کے ناقد سمجھے جانے والے معروف یوٹیوبر دھروو راٹھی کو بھی پولیس نے ہفتہ کی صبح حراست میں لیا تھا۔
دھروو راٹھی کے قریبی دوست اور گروگرام پولیس نے ان کی حراست کی تصدیق کی ہے۔ دھروو کے قریبی دوست کے مطابق، انھیں گروگرام کے سیکٹر 56 میں حراست میں لیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ جمعہ کی رات دھروو راٹھی نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی۔ جس میں انھیں انڈیا گیٹ کے سامنے چہل قدمی کرتے دیکھا گیا۔ اس ویڈیو میں، دھروو نے کہا تھا ’میں دلی پہنچا ہوں۔ میں نے دیکھا کہ وزیراعظم نے 50 سے زیادہ میٹرو سٹیشن بند کر دیے ہیں اور کئی ٹرینیں اور بسیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ وہ احتجاج کی وجہ سے دہلی کو لاک ڈاؤن کر رہے ہیں۔‘
انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں احتجاج کے دوران ایک ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ نیوزلانڈری، سکرول ڈاٹ اِن اور ‘نو بھارت ٹائمز’ سے وابستہ صحافیوں کو بھی پولیس نے حراست میں لیا۔
اسلام آباد ناکام ہو چکا ہے تو اسے تھرپارکر والوں کے حوالے کردیں، بلاول بھٹو
میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ تھرکول بلاک ٹو فیز تھری پروجیکٹ کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب…





