پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی(میڈیا رپورٹس) کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارہ کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں لاپتہ ہوا، حکام کا کہنا ہے کہ طیارے نے رابطہ منقطع ہونے سے قبل نیوی گیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دی تھی، جس پر کراچی ایریا کنٹرول سینٹر نے فوری طور پر عملے کو تکنیکی رہنمائی فراہم کی،اتھارٹی کے مطابق ریڈار پر طیارے کو تیزی سے بلندی ہوتے اور اپنی سمت تبدیل کرتے ہوئے دیکھا گیا، جس کے بعد اس سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو گیا،پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستانی بحریہ کا جہاز پی این ایس ذوالفقار متاثرہ علاقے کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے جبکہ پاکستانی فضائیہ بھی تلاش اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہے،فلائٹ ریڈار 24 کے اعداد و شمار کے مطابق طیارے کے آخری لمحات غیر معمولی تھے۔ یہ ایک منٹ سے بھی کم وقت میں تقریباً 5,000 فٹ نیچے آیا، پھر صرف 30 سیکنڈ میں تقریباً 6,000 فٹ اوپر گیا، جس کے بعد 36,550 فٹ کی بلندی سےغیر معمولی انداز میں نیچے آیا،فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق آخری موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق طیارہ سطحِ سمندر سے 1,100 فٹ کی بلندی پر تھا اور یہ ایک منٹ میں 22,400 فٹ کی رفتار سے نیچے آ رہا تھا، جو تقریباً 400 کلومیٹر فی گھنٹہ بنتی ہے۔ یہ نیچے آنے کی انتہائی غیر معمولی اور بہت تیز رفتار تھی۔
لاپتہ طیارہ بوئنگ 737 کا ایک پرانا ماڈل 737-400 ہے۔ یہ 1999 میں روس کی ایروفلوٹ ایئر لائن کو مسافر طیارے کے طور پر فراہم کیا گیا تھا اور 2012 میں اسے کارگو طیارے میں تبدیل کیا گیا،یہ کے ٹو ایئر ویز کا واحد طیارہ ہے اور 2024 میں اس کی سروس میں شامل ہوا تھا،لاپتہ طیارہ بوئنگ 737 سیریز کا ایک پرانا ماڈل تھا۔ یہ 737 میکس طیارے سے دو جنریشن پرانا ہے اور اسے حالیہ برسوں میں حفاظتی مسائل کا سامنا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

بحیرۂ عرب میں لاپتہ ہونے والے پاکستانی کارگو طیارے کا ملبہ مل گیا، عملے کی تلاش جاری

کراچی :(میڈیا رپورٹس) شارجہ سے کراچی کے سفر کے دوران پاکستانی ساحلی حدود میں لاپتہ ہونے وا…