تسالونیکی، یونان (میڈیا رپورٹس) پرواز کے ٹریکنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ طیارہ تقریباً 10 منٹ تک فضا میں رہنے کے بعد اچانک 9,000 فٹ (2,700 میٹر) نیچے آ گیا۔ مسافروں کی جانب سے مقامی میڈیا کو بتایا گیا کہ انھوں نے ’ایک دھماکے جیسی‘ آواز سنی۔
یونان کے ایک ہسپتال کے عہدیدار نے بتایا کہ سربیا سے تعلق رکھنے والے 61 سالہ شخص کو رگڑ سے ہونے والے زخم آئے ہیں جن کا کا علاج کیا جا رہا ہے۔
میخالیس گیاناکوس نےبتایا کہ مذکورہ مسافر کی اہلیہ تقریباً پانچ منٹ تک ان کی ٹانگوں کو پکڑی رہیں تاکہ ہوا کے دباؤ سے کہیں وہ کھڑکی سے باہر نہ چلے جائیں۔
رائن ایئر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پرواز جمعے کے روز یونان کے شہر تھیسالونیکی سے جرمنی کے میمنگن جا رہی تھی کہ ’اڑان بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد واپس آ گئی جب ایک مسافر کے قریب موجود کھڑکی پرواز کے دوران اپنی جگہ سے نکل گئی۔‘
آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والی فضائی کمپنی کا کہنا ہے کہ طیارے نے معمول کے مطابق لینڈنگ کی اور مسافر ٹرمینل واپس آ گئے۔ ’ایک مسافر نے تھیسالونیکی میں طبی امداد کی درخواست کی تھی جسے طبی امداد فراہم کی گئی۔‘
کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ مسافروں کو میمنگن پہنچانے کے لیے کچھ گھنٹے بعد ایک متبادل طیارے کا انتظام کیا گیا۔
جہاز میں سوار مسافروں نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ اس شخص کا جسم کندھوں تک سر کے بل کھڑکی سے باہر لٹک گیا تھا۔ ان کے مطابق دیگر مسافروں نے اس شخص کو پکڑ کر واپس طیارے کے اندر کھینچا۔
سرکاری ہسپتالوں کے ملازمین کی فیڈریشن پین ہیلینک کے صدر میخالیس گیاناکوس نے بتایا کہ 61 سالہ سربین شخص کا ہسپتال میں رگڑ سے ہونے والے زخموں کا علاج کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ زخمی ’صدمے میں ہے لیکن ہوش میں ہے۔‘
حادثے کا شکار ہونے والا طیارے کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ 18 سال پرانا ہے اور اسے رائن ایئر کی ذیلی کمپنی مالٹا ایئر چلا رہی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

تہران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی درخواست نہیں کی: ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ

تہران (میڈیا رپورٹس)ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کی تردید کی …