
کراچی (میڈیا رپورٹس)کے ٹو ایئرویز کے کارگو طیارہ حادثہ میں جاں بحق ہونیوالے عملے کے اہلخانہ نے بلیک باکس کی تلاش کے لیے عالمی سطح پر مدد لینے کا مطالبہ کر دیا ہے تاکہ حادثے کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارہ 7 جولائی کو کراچی کے قریب بحیرہ عرب میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے فوری بعد کچھ ملبہ تو برآمد کر لیا گیا، تاہم طیارے کے فلائٹ ریکارڈرز (بلیک باکس) اب تک نہیں مل سکے۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق جس مقام پر طیارہ گرا وہاں پانی کی گہرائی تقریباً 3 ہزار میٹر ہے، جس کی وجہ سے بلیک باکس کی تلاش ایک مہنگا اور پیچیدہ عمل بن چکا ہے اور اس کے لیے غیر ملکی معاونت درکار ہو سکتی ہے۔
حادثے میں جاں بحق کپتان رضوان ادریس کے بیٹے یاشب رضوان نے کہا کہ شفاف تحقیقات کے لیے ہر ممکن وسائل استعمال کیے جائیں، چاہے وہ مقامی ہوں یا بین الاقوامی۔ دیگر متاثرہ خاندانوں نے بھی اسی مطالبے کی حمایت کی ہے
رپورٹس کے مطابق طیارے کے پائلٹس نے حادثے سے چند منٹ قبل نیویگیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دی تھی۔ ایوی ایشن حکام کے مطابق طیارہ اچانک تیزی سے نیچے آیا، کچھ لمحوں کے لیے بلند ہوا، اور پھر کنٹرول کھو کر سمندر میں جا گرا۔
رائٹرز نے ذرائع سے رپورٹ کیا ہے کہ پرواز سے قبل طیارہ تقریباً 10 دن شارجہ میں موجود رہا جہاں اس کے ایک اہم نیویگیشن جزو کو تبدیل کیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کے حادثات عموماً متعدد عوامل کے نتیجے میں پیش آتے ہیں، اور ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا اس پرزے کی تبدیلی حادثے سے متعلق تھی یا نہیں۔
یاد رہے کہ بلیک باکس کے سگنلز عموماً 30 دن تک خارج ہوتے رہتے ہیں، جس کے بعد انہیں تلاش کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے، اس لیے متاثرین کے اہل خانہ اور ماہرین فوری اور مؤثر سرچ آپریشن کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔
مصطفیٰ زاہد آوارہ پن 2 میں اپنی آواز کا جادو جگائیں گے یا نہیں؟ آخر کار عقدہ کھل گیا
بالی ووڈ فلم آوارہ پن کے شائقین کی بڑی ڈیمانڈ منظر عام پر آنے کے بعد مصطفیٰ زاہد نے بھی…





