نیپال اور تبت (میڈیارپورٹس)کے سرحدی علاقے میں گلیشیئر پھٹنے سے آنے والے ہولناک فلیش فلڈ (اچانک سیلاب) کے باعث اب تک 626 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ 3,000 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں جن میں بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں۔
موت کا رقص: سیلابی ریلوں کی زد میں آ کر نیپال میں 626 اور تبت میں 7 افراد کی موت کی تصدیق۔بڑے پیمانے پر گمشدگی: تقریباً 3,000 افراد تاحال لاپتہ، جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔متاثرین کی تعداد: ریڈ کراس کے مطابق اس ناگہانی آفت سے 93,000 سے زائد افراد براہِ راست متاثر ہوئے ہیں
اضلاع کٹ کر رہ گئے: راسوا، چتوان، نوواکوٹ اور گورکھا سمیت کئی اضلاع کا زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع۔بجلی کا بحران: سیلابی ریلے کم از کم 12 ہائیڈرو پاور منصوبے، درجنوں پل اور سڑکیں بہا لے گئے
سیاح محصور: تبت کی سرحد کے قریب واقع اضلاع میں سینکڑوں ملکی و غیر ملکی سیاح پھنسے ہوئے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

اسپتال میں سہولیات ناکافی، کوئی چیز عالمی معیار کے مطابق نہیں، سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش

اسلام آباد:(میڈیا رپورٹس) رپورٹ وزیراعظم کے مشیر توقیر شاہ کے آفس میں جمع کروائی گئی۔ ان…