واشنگٹن (میڈیا رپورٹس)ٹرمپ نے کہا: ’ہم پہلے ہی اس بات پر اتفاق کر چکے ہیں کہ اس سال کے آخر تک ہم اسرائیل کو ادائیگیاں نہیں کریں گے۔ اب اگر اسرائیل کو ضرورت ہوئی تو ہم اس کی مدد کریں گے۔
تاہم یہ واضح نہیں کہ صدر کس فنڈنگ کا حوالہ دے رہے تھے، کیونکہ اسرائیل کو سالانہ 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرنے والی مفاہمتی یادداشت 2028 کے اختتام پر ختم ہو رہی ہے۔
انھوں نے کہا: ’جہاں تک اسرائیل کو ادائیگیوں کا تعلق ہے، نیتن یاہو اور میں نے یہ معاہدہ کیا تھا کہ ہم اسرائیل کو سالانہ چار ارب ڈالر دیتے ہیں، اور ہم نے چند ماہ قبل طے کیا کہ یہ سلسلہ بند کر دیا جائے گا۔‘
ٹرمپ نے ڈیموکریٹس پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ اسرائیل کے لیے امریکی امداد کو ریپبلکنز پر تنقید کے لیے ایک ’سیاسی نکتے‘ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو اسرائیل امریکہ سے ہتھیار خرید سکتا ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج کی مدد کے لیے کسی نئے انتظام کی تفصیلات فی الحال واضح نہیں ہیں۔
مئی میں امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ امریکہ کی مالی امداد کو، جو اس وقت سالانہ 3.8 ارب ڈالر ہے، بتدریج کم کر کے ’صفر‘ تک لانا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا: ’آئیے ابھی آغاز کرتے ہیں اور اگلی ایک دہائی میں یہ عمل مکمل کرتے ہیں، لیکن میں یہ عمل ابھی شروع کرنا چاہتا ہوں۔ میں اگلی کانگریس کا انتظار نہیں کرنا چاہتا۔‘
دوسری عالمی جنگ کے اختتام سے اب تک اسرائیل امریکی امداد حاصل کرنے والا سب سے بڑا ملک رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

ٹرمپ نے ایران سے متعلق اپنا اگلا قدم بتا دیا

ٹرمپ نے ایران سے متعلق اپنا اگلا قدم بتا دیا واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ …