
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کے لیے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں اور پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ وہ سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں میں اکثریت حاصل کر کے کانگریس کا کنٹرول واپس لے سکتے ہیں۔ مشی گن سے ڈیموکریٹ سینیٹ امیدوار عبدل السید نے کامیابی کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ سی بی ایس کے مطابق ان کے سینیٹ نشست جیتنے کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔
نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انتخابی نتائج کو قبول کرنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہوں، ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کسی مشترکہ لائحہ عمل پر کام کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہوں، ممکن ہے دونوں جماعتیں کسی معاملے پر اتفاقِ رائے پیدا کرلیں۔
بعدازاں وال اسٹریٹ جرنل کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران جنگ اور مہنگائی ریپبلکنز کی شکست کی وجہ بنی، اپنی کابینہ میں تبدیلی کا ارادہ نہیں رکھتا، امیگریشن سمیت متعدد معاملات پر ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کر سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ ڈیموکریٹس کی انتخابی کارکردگی کو سراہتا ہوں، ڈیموکریٹس کئی معاملات پر تعاون کر سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ لوگ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے قلیل مدتی اثرات برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں تھے، انتخابی نتائج کے ریپبلکنز کے خلاف آنے میں ایران جنگ اہم رہی، ڈیموکریٹس غیر ضروری نوعیت کے بل پیش کریں گے تو ویٹو کروں گا۔
ٹرمپ نے ایران سے متعلق اپنا اگلا قدم بتا دیا
ٹرمپ نے ایران سے متعلق اپنا اگلا قدم بتا دیا واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ …





