
آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے کہا کہ سعد عباسی اور خاتون نمرہ ساتھ میں کام کرتے تھے، ملزم خاتون کو کسی پارک یا کسی اور جگہ لے جانا چاہتا تھا، وہ زبردستی اس کو لے کر جانا چاہتا تھا، خاتون نہیں جانا چاہتی تھی، ملزم اس سے قبل بھی لڑکی کو دو بار گھر سے پک کر چکا تھا۔علی ناصر رضوی نے کہا کہ ملزم نے لڑکی کو آج کام کی جگہ پر جانے کے بجائے کہیں اور لے جانے کی کوشش کی، لڑکی نے کسی اور جگہ جانے سے انکار کیا تو شاہین چوک کے پاس تکرار ہوئی ، گروپ کیپٹن عاصم طارق اپنے دفتر سے جا رہے تھے جہاں انہوں نے تکرار دیکھ کر روکنے کی کوشش کی، تو ملزم نے شہید کی گاڑی کے پاس جا کر ان پر فائرنگ کی،انہوں نے بتایا کہ ملزم کی گرفتاری کیلیے 11 ٹیمیں تشکیل دیں، سیف سٹی اور ڈیجیٹل سرویلنس کے علاوہ فزیکل فیڈ کیلیے ٹیموں نے کام کیا، آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے ملزم کی لوکیشن اور اس کے شرٹ بدلنے کو ٹریک کیا گیا، سعد عباسی اس سے قبل بھی ایک ماہ پہلے ایک خاتون کو میانوالی لے کر گیا، جس معاملے کی صلح صفائی ہوگئی تھی۔لزم نے پرائیویٹ بس سروس کا ٹکٹ لے کر فرار ہونے کی کوشش کی، سعد عباسی نے موبائل بند کر کے پرائیویٹ آئی پی سے انٹرنیٹ آن رکھا، کیس کو دستیاب شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے گا، پولیس فیملی کے ہمراہ سفر کرنے والوں کو زیادہ چیک نہیں کرتی، ملزم کے ہمراہ موٹرسائیکل پر خاتون سوار تھی، یہی وجہ تھی کہ کسی جگہ اسلحہ چیک نہیں ہو سکا۔
شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کا تعزیتی جلوس تہران میں رواں دواں، لاکھوں افراد شریک
تہران (میڈیا رپورٹس)ایرانی حکام نے بتایا ہے کہ جلوس میں لاکھوں افراد شریک ہیں، جلوس امام ح…





