
حالیہ بجٹ 2026-27 کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کسانوں اور کم سیلری والے خاندانوں کیلئے وفاقی حکومت کے 5 بڑے معاشی پلان کا اعلان کیا۔
وفاقی حکومت نے وزیر اعظم شہباز شریف کی رہنمائی میں نجی شعبے کے تعاون سے مالی شمولیت کو فروغ دینے اور ہنر مند و محروم طبقات کے لیے ترقی کے مواقع پیدا کرنے کے مقصد سے پانچ اہم اسکیمیں متعارف کروائی ہیں۔
پہلی اسکیم ’’زرخیزی‘‘ کے نام سے شروع کی گئی ہے، جس کے تحت سات لاکھ 50 ہزار چھوٹے کسانوں کو بلا ضمانت اور مکمل طور پر ڈیجیٹل طریقہ کار کے ذریعے 300 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔
دوسری اسکیم ’’وزیراعظم اپنا گھر پروگرام‘‘ ہے، جس کے تحت کم اور متوسط آمدنی والے افراد کو کم لاگت ہاؤسنگ فنانس کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس پروگرام کے تحت رہائشی قرضے صرف پانچ فیصد مارک اپ پر دستیاب ہوں گے۔
حکومت کی تیسری اہم اسکیم ’’پاکستان ایکسیلیریٹڈ وہیکل الیکٹریفیکیشن (PAVE)‘‘ ہے، جس کے ذریعے ای بائیکس اور ای رکشوں کی خریداری کے لیے رعایتی فنانسنگ فراہم کی جا رہی ہے۔
چوتھی اسکیم ’’وزیراعظم فین ریپلیسمنٹ پروگرام‘‘ ہے، جس کے تحت ملک بھر میں پرانے اور زیادہ بجلی استعمال کرنے والے پنکھوں کی جگہ کم توانائی خرچ کرنے والے پنکھے نصب کیے جا رہے ہیں۔
پانچواں اقدام ’’سوشل امپیکٹ فنانسنگ‘‘ کے تحت کیا گیا ہے، جس میں دو پروگرام شامل ہیں۔
پہلا پروگرام ’’پاکستان اسکلز امپیکٹ بانڈ‘‘ ہے، جس کے ذریعے نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) کے تحت نوجوانوں کو فنی تربیت فراہم کی جائے گی۔
دوسرا پروگرام ’’ایگری اسٹوریج فنانسنگ فیسلٹی‘‘ ہے، جو 7.1 ارب روپے کا منصوبہ ہے۔ اس کے تحت ملک بھر میں ذخیرہ اندوزی کی سہولیات قائم کی جائیں گی، جہاں کسان اپنا اناج محفوظ کر سکیں گے اور محفوظ شدہ غلے کے عوض بینکوں سے قرض حاصل کرنے کی سہولت بھی دستیاب ہوگی۔
حکومت کے مطابق ان پانچوں اسکیموں کا بنیادی مقصد مالی شمولیت کی کوششوں کو تیز کرنا اور معاشرے کے ہنر مند و محروم طبقات کے لیے معاشی ترقی کے نئے راستے کھولنا ہے۔
حکومت کا تنخواہ دار طبقے کے چار ٹیکس سلیبز میں ریلیف، سرچارج ختم کرنے کا اعلان
حکومت کا تنخواہ دار طبقے کے چار ٹیکس سلیبز میں ریلیف، سرچارج ختم کرنے کا اعلان اسلام آباد:…





