علی مرتضٰی اپنی اہلیہ اور دو کمسن بیٹیوں کے ہمراہ وہ چند خوشگوار دن گزارنے اور اپنے دوست و میزبان احسن خان سے ملاقات کی غرض سے کوئٹہ پہنچے تھے۔ منصوبہ صرف اتنا تھا کہ شہر کی رونقوں اور بلوچستان کے قدرتی حسن سے لطف اندوز ہوا جائے، یادیں سمیٹی جائیں اور پھر واپس کراچی لوٹ آیا جائے لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔
جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب ضلع مستونگ کے علاقے دشت میں، مبینہ طور پر راستہ بھٹک جانے کے بعد ان کا سامنا نامعلوم مسلح افراد سے ہوا،بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ ’واقعے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لاکر کھڑا کیا جائے گا۔علی مرتضیٰ جمیل کا تعلق پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے تھا اور وہ کراچی میں کاروبار کرتے تھے، علی مرتضٰی نے رات کو ہی نکلنے کا فیصلہ کیا اور انھوں نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ ان کو کراچی میں ایک ضروری کام ہے اس لیے وہ رات کو ہی نکلیں گے۔‘انھوں نے بتایا کہ معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ سریاب روڈ سے کس طرح راستہ بھٹک گئے، جس کے نتیجے میں خاندان کو المناک سانحے سے دوچار ہونا پڑا۔
(میڈیا رپورٹس)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

پی آئی اے نجکاری

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ کی نجکاری کے پہلے مالی مرحلے کی تکمیل کے بعد ا…