
عدالت(میڈیا رپورٹس) نے اپنے حکم میں قرار دیا کہ شکایت کے ساتھ پیش کیے گئے پوڈکاسٹس کی ویڈیوز، ٹرانسکرپٹس، اسکرین شاٹس اور دیگر مواد کا جائزہ لینے کے بعد بادی النظر میں درخواست گزار کے خلاف بعض ہتک آمیز، توہین آمیز اور قابلِ اعتراض ریمارکس سامنے آئے ہیں، جو سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائے گئے۔مبشر لقمان کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ وہ صحافی، ٹی وی اینکر، میڈیا ایگزیکٹو اور عوامی مبصر ہیں اور مختلف معروف ٹی وی چینلز اور میڈیا اداروں کے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔محمود احمد بھٹی نے مختلف پوڈکاسٹس اور ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز پر مبشر لقمان کے بارے میں جھوٹے، ہتک آمیز اور توہین آمیز بیانات دیے۔ شکایت میں 6 جون، 18 جون، 19 جون اور یکم جولائی 2026 کو نشر ہونے والے پوڈکاسٹس کا حوالہ دیا گیا۔بیان کیے گئےبعض بیانات براہِ راست دھمکیوں کے زمرے میں آتے ہیں،
عدالتی حکم کے مطابق مبشر لقمان نے بطور عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرایا جبکہ نوید شیخ اور سید کاظم حسین نقوی بھی بطور گواہ پیش ہوئے۔ درخواست کے حق میں مختلف دستاویزات اور پوڈکاسٹس کی ویڈیوز پر مشتمل یو ایس بھی عدالت میں پیش کی گئی۔عدالت نے قرار دیا کہ پیش کیے گئے مواد اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں محمود احمد بھٹی کے خلاف عائد الزامات مزید جانچ پڑتال کے متقاضی ہیں اور بادی النظر میں شکایت میں PECA 2016 کی دفعات 11، 20، 21 اور 24 جبکہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 500 اور 506 کے تحت جرائم کا معاملہ بنتا ہے۔عدالت نے حکم دیا کہ نامزد ملزم نمبر 1 محمود احمد بھٹی کو دفعہ 204 ضابطۂ فوجداری کے تحت 28 ستمبر 2026 کو طلب کرنے کا نوٹس جاری کیا جائے،عدالتی حکم ایڈیشنل سیشن جج لاہور نصرت علی صدیقی ملک نے 7 ستمبر 2026 کو جاری کیا۔
ایران بھی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا حصہ بن جائے گا: روسی وزیر خارجہ
میڈیا رپورٹس کے مطابق لاوروف نے کہا کہ اس کے حامیوں نے عندیہ دیا ہے کہ خلیج سے باہر کے مما…





