اسلام آباد(میڈیارپورٹس)مذاکرات سے قبل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آج کا دن پاکستانی قوم کے لیے اہم ہے، ہم عقل کی بات کرنے آئے ہیں، ہم پاکستانی قوم کا اعتماد لے کر آئے ہیں،عوام بانی پی ٹی آئی کی رہائی دیکھنا چاہتی ہے، ہم اسیران کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں آئین و انصاف کو بحال کرنا یے، اگر یہ نہیں مانتے تو پھر ہم پاکستانی قوم کے ساتھ کھڑے ہوں گے، ہم بنیادی مطالبات ان کے سامنے کل بھی رکھ چکے ہیں آج بھی رکھیں گے، ہمارا بنیادی مطالبہ بانی پی ٹی آئی تک رسائی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مذاکراتی کمیٹی میں کچھ ممبران نے غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے، اپنا یکطرفہ بیانیہ میڈیا کے سامنے رکھا گیا۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے واضح کردیا کہ احتجاج اور انتشار سے رعایتیں نہیں ملیں گی، اگر کوئی رعایت چاہئے تو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اپوزیشن کی ہٹ دھرمی جاری رہی تو آرٹیکل 232 اور 234 بروئے کار لائے جائیں گے۔
گزشتہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور میں ماحول کئی بار کشیدہ ہوا اور فریقین کے درمیان گرما گرمی بھی ہوئی۔
ذرائع کے مطابق حکومتی ٹیم نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد پر چڑھائی کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔
مذاکرات میں حکومت نے اپوزیشن سے باضابطہ طور پر لانگ مارچ ملتوی یا منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا، حکومت نے اپوزیشن کو عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

بھارت نے ایک اور فالز فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچایا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھانڈا پھوڑ دیا

میڈیا(میڈیا رپورٹس) سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھر…