فراز گراؤنڈ بھگدڑ کیس: مسٹر پتلو کے اجازت نامے کی شرائط سامنے آگئیں، اہم انکشافات

انعامی قرعہ اندازی کے لیے ہزاروں افراد کو جمع کیا گیا، حفاظتی انتظامات میں مبینہ غفلت، 2 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی

فراز گراؤنڈ میں بھگدڑ کے افسوسناک واقعے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس تحقیقات کے دوران پروگرام کے منتظم مسٹر پتلو کو جاری کیے گئے اجازت نامے کی شرائط سامنے آگئی ہیں، جن میں شرکاء کی حفاظت، ہجوم کو کنٹرول کرنے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے واضح ہدایات دی گئی تھیں۔

ابتدائی پولیس تحقیقات کے مطابق تقریب کے منتظمین نے اجازت نامے میں درج متعدد شرائط پر مبینہ طور پر عمل نہیں کیا۔ اجازت نامہ محفلِ سماع کے انعقاد کے لیے حاصل کیا گیا تھا، تاہم پروگرام کے دوران انعامی قرعہ اندازی کا اہتمام کیا گیا، جس کی تشہیر کے باعث بڑی تعداد میں افراد گراؤنڈ پہنچ گئے۔

اجازت نامے میں تقریب کا وقت نمازِ عشاء کے بعد مقرر کیا گیا تھا، لیکن پولیس کے مطابق پروگرام کی سرگرمیاں مقررہ وقت سے پہلے شروع کر دی گئیں۔ اجازت نامے میں یہ ذمہ داری بھی منتظم پروگرام مسٹر پتلو اور دیگر منتظمین پر عائد کی گئی تھی کہ وہ شرکاء کی حفاظت، امن و امان اور نظم و ضبط کو یقینی بنائیں۔

اجازت نامے کی شرط نمبر 9 کے تحت داخلی سیکیورٹی کے لیے رضاکاروں یا نجی سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی، جبکہ شرط نمبر 14 کے مطابق شرکاء کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب اور محفوظ مقام کا انتخاب لازمی قرار دیا گیا تھا۔

اسی طرح شرط نمبر 15 میں ہجوم کو منظم رکھنے اور بھگدڑ سے بچاؤ کے انتظامات کرنے جبکہ شرط نمبر 16 کے تحت ہنگامی اخراج کے راستے کھلے اور ہر قسم کی رکاوٹ سے پاک رکھنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ اجازت نامے میں عوامی سڑکوں، ٹریفک اور ایمرجنسی راستوں میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ کرنے کی شرائط بھی شامل تھیں۔

پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق انعامی قرعہ اندازی کے اعلانات اور تشہیر کے باعث بڑی تعداد میں لوگ گراؤنڈ پہنچے۔ داخلی راستوں پر ہجوم کو کنٹرول کرنے کے ناکافی انتظامات اور بیک وقت داخلے کے اعلانات کے نتیجے میں صورتحال بے قابو ہوئی اور بھگدڑ مچ گئی۔

افسوسناک واقعے میں دو افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ پولیس نے اجازت نامے کی مبینہ خلاف ورزی، حفاظتی انتظامات میں غفلت اور دیگر الزامات کے تحت مسٹر پتلو سمیت 9 نامزد اور 40 سے 45 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔

واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں جبکہ پولیس کی جانب سے ذمہ داران کے کردار اور حفاظتی انتظامات میں مبینہ کوتاہیوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

سوات میں کشتی ڈوبنے کے واقعے میں سابق فوجی افسر کی لاپتہ بیٹی کی لاش بھی چار ماہ بعد برآمد: ’شناخت ٹوٹے دانت سے ہوئی‘

صوبہ خیبرپختونخوا ہ(میڈیا رپورٹس) میں پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ سوات کے قریب واقع جھیل سیف …