دبئی: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں نئے ٹریفک قوانین 2027 کے تحت گاڑیوں کی رجسٹریشن، ڈرائیونگ کے دورانیے، الیکٹرک اسکوٹرز کے استعمال، بچوں کی سفری حفاظت اور ڈرائیونگ لائسنس کی مدت سے متعلق نئی شرائط متعارف کرادی گئی ہیں۔

نئے ضوابط کے مطابق کوئی بھی رہائشی اضافی فیس کے بغیر دو گاڑیاں رجسٹر کرا سکے گا، جب کہ تیسری اور اس کے بعد کی گاڑیوں کی رجسٹریشن پر اضافی فیس عائد ہوگی۔ تاہم ایک شخص بیک وقت پانچ سے زیادہ گاڑیوں کا مالک نہیں ہوسکے گا۔ دائیں جانب اسٹیئرنگ والی گاڑیوں کو سڑکوں پر چلانے کے لیے لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا، البتہ انہیں نمائش کے لیے رکھنے کی اجازت ہوگی۔

ڈرائیونگ کے دورانیے پر بھی حد مقرر کردی گئی ہے۔ کوئی ڈرائیور 24 گھنٹوں کے دوران مجموعی طور پر نو گھنٹے سے زیادہ گاڑی نہیں چلا سکے گا، تاہم وفاقی ٹریفک کونسل اس مدت میں ردوبدل کا اختیار رکھتی ہے۔ اسی طرح شدید تھکن یا نقاہت کی حالت میں ڈرائیونگ کرنا ممنوع ہوگا، خصوصاً جب ڈرائیور محفوظ طریقے سے گاڑی چلانے کے قابل نہ ہو۔

ذاتی نقل و حمل کے ذرائع میں سائیکل، الیکٹرک سائیکل، الیکٹرک اسکوٹر، موپیڈ، اسکیٹ بورڈ اور نقل و حرکت میں معاون آلات شامل کیے گئے ہیں۔ الیکٹرک سائیکل، اسکوٹر اور چھوٹے پہیوں والی موٹر سائیکلوں کے لیے متعلقہ حکام سے اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا، جب کہ ان کا استعمال صرف مقررہ راستوں اور منظور شدہ سڑکوں تک محدود ہوگا۔ اجازت نامے کے حصول کے لیے کم از کم عمر 15 سال مقرر کی گئی ہے اور اس کی مدت تین سال ہوگی۔

ہلکی گاڑیوں کی رجسٹریشن میں بھی توسیع کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ متعلقہ لائسنسنگ اتھارٹی کی منظوری سے رجسٹریشن کی مدت ایک سال سے بڑھا کر دو سال کرائی جاسکے گی۔ اس سہولت سے صرف ایسی گاڑیاں مستفید ہوں گی جو پہلی رجسٹریشن کے وقت نئی ہوں اور جن کی تیاری کو چھ سال سے زیادہ عرصہ نہ گزرا ہو۔

الیکٹرک اسکوٹرز اور سائیکلوں کے لیے حفاظتی معیار بھی سخت کردیے گئے ہیں۔ ان میں سامنے سفید لائٹ، عقب میں سرخ بریک لائٹ اور ہینڈل پر آواز دینے والا آلہ نصب ہونا لازمی ہوگا۔ اس کے علاوہ پچھلے پہیے میں کم از کم ایک بریک، درست حالت کے ٹائر اور مضبوط پہیے بھی ضروری ہوں گے۔ تمام آلات کا فعال اور محفوظ حالت میں ہونا لازم قرار دیا گیا ہے۔

بچوں کی سفری حفاظت کے لیے چار سال یا اس سے کم عمر بچوں کو گاڑی میں مخصوص حفاظتی نشست فراہم کرنا ہوگی۔ یہ نشست بچے کے قد اور وزن کے مطابق، پچھلی سیٹ پر نصب اور قومی حفاظتی معیار کے مطابق ہونی چاہیے۔ طبی وجوہات کی بنا پر حفاظتی نشست استعمال نہ کرنے کی صورت میں مستند میڈیکل سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوگا، جب کہ بچے کے ساتھ پچھلی نشست پر ایک بالغ فرد کی موجودگی بھی ضروری ہوگی۔ جن گاڑیوں میں پچھلی نشستیں موجود نہیں، ان میں حفاظتی سیٹ اگلی جانب نصب کی جاسکے گی، بشرطیکہ اس کا رخ پیچھے کی طرف ہو اور ایئر بیگ بند کردیا جائے۔

ڈیلیوری سروس سے وابستہ موٹر سائیکل سواروں کے لیے بھی نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ انہیں مقررہ یونیفارم پہننے، پیشہ ورانہ اجازت نامہ ساتھ رکھنے اور طلب کیے جانے پر پیش کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ گاڑیوں میں منظور شدہ نظام اور سامان کی ترسیل کے لیے مخصوص آلات استعمال کرنا ہوں گے۔ ڈیلیوری کے دوران موٹر سائیکل پر کسی دوسرے شخص کو بٹھانے یا آرڈرز منتقل کرنے کے لیے ذاتی بیگ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

ٹریفک حادثات میں زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دینے کے لیے بھی اہلیت کی شرط مقرر کی گئی ہے۔ صرف وہی افراد یہ ذمہ داری انجام دے سکیں گے جنہوں نے مستند ادارے سے ابتدائی طبی امداد کی تربیت مکمل کر رکھی ہو۔ اگر سرٹیفکیٹ کی میعاد مقرر ہے تو اس کا کارآمد ہونا ضروری ہوگا، جب کہ امداد فراہم کرنے والے شخص میں زخمی کی حالت کے مطابق مدد کرنے کی جسمانی صلاحیت بھی ہونی چاہیے۔

ڈرائیونگ لائسنس کی میعاد عمر اور رہائشی حیثیت کے مطابق ایک سے 10 سال تک مقرر کی گئی ہے۔ 21 سال سے کم عمر افراد کو عارضی لائسنس جاری ہوگا جس کی ہر سال تجدید کرانا ہوگی، جب کہ پہلی مرتبہ لائسنس حاصل کرنے والوں کو دو سال کے لیے اجازت دی جائے گی۔ دوسری جانب یو اے ای کے شہریوں اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک کے شہریوں کو 10 سال کی مدت کے لیے لائسنس جاری کیے جائیں گے۔

 نئے ٹریفک قوانین کا اطلاق یکم جنوری 2027 سے ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

وسط مدتی انتخابات میں الہان عمر سمیت 6 مسلمان امیدوار ایوانِ نمائندگان کی نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوگئے۔

وسط مدتی انتخابات میں الہان عمر سمیت 6 مسلمان امیدوار ایوانِ نمائندگان کی نشستیں جیتنے میں…