کوئٹہ (میڈیا رپورٹس)کے صوبہ بلوچستان میں سورینج کے علاقے میں کوئلے کی کان میں جمعرات کو پیش آنے والے حادثے کے بعد کان میں پھنسے کان کنوں کی تلاش کی کارروائی جاری ہے اور پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ اب تک 34 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔
سورینج بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے مشرق میں تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پہاڑی علاقہ ہے جہاں بڑی تعداد میں کوئلے کی کانیں موجود ہیں۔
بلوچستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق کان میں جب دھماکہ ہوا تو اس وقت اندر کم از کم 36 کان کن موجود تھے۔
مزدور رہنما پیر محمد کاکڑ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی طور پر یہ معلوم ہوا کہ کان میں میتھین گیس بھرجانے کی وجہ سے دھماکہ ہوا تاہم سرکاری طور پر تاحال دھماکے کی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔
نیشنل لیبر فیڈریشن کے مرکزی عہدیدار عمر حیات نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ دھماکہ انتہائی شدید تھا جس کی وجہ سے کان کا ایک بڑا حصہ بیٹھ گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

کشمیر ہمارا لاڈلہ ترین بچہ ہے، یہ پاکستان کی شہ رگ تھا اور رہے گا، ڈی جی آئی ایس پی آر

اسلام آباد (میڈیا رپورٹس) پریس بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے گڈ گورننس او…