اسلام آباد (میڈیا رپورٹس) پریس بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے گڈ گورننس اور نئے صوبوں سے متعلق حالیہ بیان پر سوالات پر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ وزیر داخلہ نے اس معاملے پر اپنی ذاتی رائے کا اظہار کیا ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ گڈ گورننس پاکستان کے لیے ایک انتہائی اہم اور سنجیدہ موضوع ہے اور ملک کو درپیش متعدد مسائل کا حل مؤثر حکمرانی اور بہتر انتظامی نظام سے جڑا ہوا ہے۔ تاہم گڈ گورننس کیسے لانی ہے، کون سی اصلاحات کرنی ہیں اور کس سمت جانا ہے، یہ فیصلہ سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں نے کرنا ہے
کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیریوں نے کرنا ہے، جب ان سے الحاق کا سوال ہوگا تو کشمیری ہر حال میں پاکستان کیساتھ الحاق کریں گے، اس وجہ سے نہیں کہ ان کا پاکستان سے ثقافتی اور مذہبی ہم آہنگی ہے، بلکہ اس لیے انہوں نے بھارتی ظلم دیکھا ہے اور وہ پاکستان کے پیچھے اپنے آباؤ اجداد کی قبریں پیچھے چھوڑ کر آئے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں تقریباً دس لاکھ سکیورٹی اہلکار تعینات کر رکھے ہیں، ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں جانے کے لیے این او سی کی ضرورت پڑتی ہے اور لوگوں کو جب چاہا گھروں سے اٹھا لیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود کشمیریوں کے دلوں میں پاکستان سے وابستگی کا جذبہ ختم نہیں کیا جا سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس جذبے کے بعد “اب بھارت نے کچھ تو کرنا ہے۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کو خریدنے کی کوشش کی، آپ کشمیری مسلمانوں سے، سکھوں سے، اقلیتوں سے، ان کی عدالتوں سے پوچھ لیں کہ یہ لوگ کیا ہے، یہ آپکو بھارت کا اصل چہرہ دکھا دیں گے۔”
35 اے، 370 جیسے اقدامات سے بھی یہ کشمیر میں پاکستان کے حق میں جو جذبہ ہے، اس کو ہلا نہیں سکے۔ لہذا بھارت نے کہا کہ جو ہم مقبوضہ کشمیر میں نہیں کر سکے، پہلگام کے ڈرامے کے بعد بھی جہاں مئی میں ان کو منہ کی کھانی پڑی، وہ بھی الٹا پڑ گیا، تو بھارت نے نیا آپشن یہ لیا کہ پاکستان کے حصے میں آگ لگانے کی کوشش کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

سورینج کان دھماکہ: 34 کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئیں، ’شانگلہ کے ایک ہی گاؤں کے 28 افراد بھی شامل‘

کوئٹہ (میڈیا رپورٹس)کے صوبہ بلوچستان میں سورینج کے علاقے میں کوئلے کی کان میں جمعرات کو پی…